اچھا خاصا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بھلا چنگا، تندرست۔  میں تو مرتا ہوں وہ یہ کہتے ہیں اچھا خاصا ہے بھلا چنگا ہے      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٨٥ ) ٢ - بہت، کافی، بالکل، بہت کچھ۔ "ان کا کام اچھا خاصا چل رہا ہے۔"    ( ١٩٠٥ء، ماہنامہ، عصر جدید، ستمبر، ٣٦٠ ) ٣ - (ہر اعتبار سے) پورا، مکمل، بڑی حد تک۔ "اچھا خاصا پہلوان ہے، کسی سے دبتا نہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ١٦٥ ) ٤ - بے عیب۔ "اچھا خاصا کپڑا ہے، اس میں برائی کیا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٨٠:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'اچھا' کے ساتھ عربی کے لفظ'خاص' سے ماخوذ لفظ 'خاصا' لگایا گیا ہے۔

مثالیں

٢ - بہت، کافی، بالکل، بہت کچھ۔ "ان کا کام اچھا خاصا چل رہا ہے۔"    ( ١٩٠٥ء، ماہنامہ، عصر جدید، ستمبر، ٣٦٠ ) ٣ - (ہر اعتبار سے) پورا، مکمل، بڑی حد تک۔ "اچھا خاصا پہلوان ہے، کسی سے دبتا نہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ١٦٥ ) ٤ - بے عیب۔ "اچھا خاصا کپڑا ہے، اس میں برائی کیا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٨٠:١ )

جنس: مذکر